Wednesday , August 23 2017

شاباش پاکستان!

الحمدللہ، پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم نے عالمی نمبر ون ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ یہ فرق نہیں پڑتا کہ یہ اعزاز کیسے آیا اور کب تک رہے گا. بات یہ ہے کہ کن حالات میں آیا اور اس کی حیثیت کیا ہے۔ یہ بھی دنیا کی تاریخ میں شائد انوکھا ریکارڈ ہو کہ ایسی ٹیم نمبر ون پر جائے جو اپنی مٹی، اپنی زمین پر نہیں کھیلنے دی جا رہی تھی۔ پھر ایک خاموش جنگجو مصباح کی قیادت اور وژن اس طرح ابھری کہ دنیا کو بتا دیا کہ کیا ہوا کہ ہم سے ہمارے میدان ہمارا کراوڈ چھین لیا گیا، ہم کھیلیں گے اور جیتیں گے۔ یہ اعزاز ایک علامت ہے کہ مشکلات کے باوجود ہم نے ثابت کیا کہ بگ تھری ہوں یا ریکارڈز ہولڈر، ہم سب سے بہتر ہیں۔ 2009 سے پابندی تو تھی ہی لیکن یہ بھی نہ بھولیں کہ 2010 کے سپاٹ فکسنگ سکینڈل نے پاکستانی کرکٹ کو کس گرداب میں ڈالا۔ پھر مصباح آیا، اور پھر ایک حیرت انگیز لیکن مدو جزر کے سفر کی ابتدا ہوئی۔ 2014 میں ہم عالمی نمبر چھ پر تھے وہاں سے یہاں تک کا سفر یہ بتاتا ہے کہ یہ اچیومنٹ پاکستان میں کبھی کرکٹ کو گرنے نہیں دے گی۔ دوسرے کھلاڑیوں خصوصاً یونس خان ، اظہر علی، اسد شفیق اور یاسر شاہ جن کی اس دور میں کنٹری بیوشن کے بنا یہ حصول ممکن نہ ہوتا۔ ایک ایسا طرز کرکٹ جس کا مزاج پاکستانی ہی نہیں کہ ہم ٹی ٹونٹی اور ون ڈے کے شیدائی ہیں، اپنی جگہ پاکستان میں ایسے بنائی کہ لوگ آج ٹیسٹ کے بھی دیوانے ہیں اور ٹیم نے ثابت کیا کہ وہ اپنا ٹمپرامنٹ اور ہنر آزمانے اور بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ہم آپ کو سلام کرتے ہیں!
ساتھ ہی ساتھ یہ نہ بھولیں کہ ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میں ہم کافی نیچے ہیں، خاص طور پر ون ڈے میں جہاں اگلے ورلڈ کپ کے لالے پڑ سکتے ہیں، اتنا فرق صاف بتاتا ہے کہ ٹیلنٹ اور وسائل نہیں، ایک لیڈرشپ کسی ٹیم کی کارکردگی پر کتنا اثر ڈال سکتی ہے۔ ایک ایسی مثال پاکستان پریمیٗر لیگ میں بھی مصباح نے اسلام آباد کو فتح سے ہمکنار کروا کر دی۔ یقیناً اس اعزاز کا فائدہ ون ڈے ٹیم اور کھلاڑیوں کے مورال پر بھی ہوگا اور اب وہ بھی جان لڑا دیں گے۔ دوسری طرف پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی اب آئی سی سی سے پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کی شدت سے بات کرنی جاہیئے۔ ابھی بہت سے سنگ میل باقی ہیں، انشااللہ ہم نے آسٹریلیا، ساوتھ افریقہ، انگلینڈ، ویسٹ انڈیزاور انڈیا کو ان کے گھروں میں سیریز میں ہرانا ہے۔ ایک پاکستانی کی حیثیت سے ہم دعا گو ہیں کہ اصل سفراب شروع ہوتا ہے کہ مقام پر پہنچنا الگ بات، اب لڑائی قیام کی ہے۔
ویل ڈن ٹیم گرین اینڈ وش یو بیسٹ آف لک!
پاکستان زندہ باد

About نوید تاج غوری

تعارف کچھ خاص نہیں، بس ایویں لکھنے کا شوق ہے۔

Check Also

آف سکرین

تحریر: نوید تاج غوری عمومی طور پر “ایک تقریب کا آنکھوں دیکھا حال” نما مضمون …

Leave a Reply