Wednesday , August 23 2017

آہ امجد صابری!

دو چار دن سے امجد صابری کے بارے میں کچھ لکھنا چاہ رہا ہوں مگر لکھ ہی نہیں پا رہا ہوں، کیا لکھوں سمجھ بھی نہیں آتا۔ نہ وہ بندہ مجھے جانتا تھا نہ میں اس سے کبھی ملا تھا۔ اس کو سنتا تھا تھوڑا بہت جیسے باقی کلام یا میوزک سنتا ہوں۔ میں ٹی وی کم دیکھتا ہوں، ماسوائے میچز کے۔۔۔ شائد رمضان میں زیادہ۔ یہ تھا کہ نظر آتا تو رک جاتا۔ معصوم آدمی لگتا، ہنساتا ہوا۔ اور کلام کا انتظار کرتا کہ کیا پڑھتا۔۔۔ بس۔ ہاں میرے پاس اس کا نمبر تھا، جیسے کچھ اور میڈیا پرسنز کے نمبرز ہوتے ہیں پاس کہ کبھی ضرورت پڑ جاتی ہے، انوائٹ کرنا ہو یا کوئی ایونٹ ارینجمینٹ، بس… پھر بھی نہ جانے کیوں بہت دکھ ہوا، رونا آیا اور تین دن آنکھیں بھیگتی رہیں۔ وجہ تلاش کرنے کی بڑی کوشش کی پر نہیں سمجھ آئی۔ کوئی ایسے بندے کو کیوں مارے گا؟ پھر پڑھا، دیکھا اور سنا کہ لوگوں کی بھی ایسی ہی کیفیت ہے۔ لوگ میسج کر رہے ہیں ایک دوسرے کو پرسہ دے رہے ہیں۔ تو پھر کیا لکھوں؟ ہم لوگ لکھ بھی کیا سکتے ہیں؟ ہاں لکھنے والے ایسے بھی ہیں جو بے پر کی لکھ رہے ہیں۔ کوئی مسلکی قلابے ملا رہا ہے کسی کو قوال بھی مراثی نظر آتے ہیں۔ کوئی شہید پر نکتہ چیں ہے۔ کسی کو مذہبی انتہا پسندی نظر ٓآتی کوئی ایم کیو ایم کو مورود الزام ٹہراتا، کسی کی نظر را پر ٹکتی۔ کوئی فنکار برادری کا جھنڈا اٹھائے پھرتا۔ لیکن جانے والا چلا گیا۔ ماں کا لاڈلا، بچوں کا سہارا، پاکستان کی پہچان، پاکستان کی آواز، خوگر حمد، ثنا خوان محمد، محب اہل بیت، مدح سران صوفیا۔ کیا شعیہ کیا سنی، وہ سب کو سوگوار کر گیا، سارے شہر کو ویران کر گیا۔ تو کیا لکھوں؟ اگلے دن اس کے واٹس ایپ کو کھولا، دیکھا تو لاسٹ سین ۱یک اٹھاون اور آخری سٹیٹس ’’لو اونلی‘‘۔ ایسے بندے کو مار دیا، جس کی زندگی سوائے محبت بانٹنے کے کچھ اور تھی ہی نہیں۔ نہ مجھے تجزیہ کرنا ہے نہ کراچی کے حالات پر بحث کرنی ہے۔ سب لکھنے والے لکھ چکے بولنے والے بول چکے۔ ہاں میں سوچتا ہوں۔۔۔ بس۔۔۔
سوچتا ہوں کہ مارنے والے کیسے نکلے ہوں گے، بلکہ جب کسی نے ان کو ’’ ٹاسک ‘‘ دیا ہوگا تو ایک لمحے کے لئےحیران بھی نہیں ہوئے؟ ارے اس کی قوالیاں، اس کی حمد، اس کی نعتیں تو ان لوگوں نے بھی سن رکھی ہونگی۔ تو پوچھا بھی نہیں اس کو کیوں؟ اور مارنے والے روزہ رکھ کے نکلے ہونگے یا ویسے؟ شائد رکھا ہو؟ شائدگولی چلانے والا روزے سے تھا؟ ایک لمحہ بھی خیال نہ آیا؟ ہاتھ نہیں رکا؟ اور پھر وہ امجد جو بھر دو جھولی میری یا محمد ﷺکی صدا لگانے والا تھا، جب اسی امجد کی جھولی خون سے بھر کر کہیں تو لوٹے ہوں گے؟ شاید گھر گئے ہوں گے شام کو۔ شائد ان کا نہیں تو گھر والوں کا روزہ ہوگا۔ شائد انہی کے گھر والے، ان کی مائیں بہنیں، سوگوار ہوں، اشک بار ہوں اور زاروقطار ہوں۔ شائد اسی کے گھر والے افطار پر امجد کی فاتحہ دعا اور قاتلوں کے لئےبدعا کر رہے ہوں؟ سوچتا ہوں کہ کیا سوچتے ہوں، پر کیا عجب کہ سوچ ہی نہ رہے ہوں، سوچتے توایسا کرتے۔۔۔ اور اب عید آئے گی تو سوچتا ہوں اس کو مارنے والے اور مروانے والے عید بھی منائیں گے؟ ہم بھی عید منائیں گے۔ نہیں منائیں گے تو امجد کے گھر والے، اس کی بوڑھی ماں، اس کے چھوٹے چھوٹے بچے۔ تو کیا لکھوں؟ نوحہ گر قوم ہیں ہم، ماتم کے سوا کیا کریں۔ مرثیہ کے سوا کیا لکھیں؟ قاتلوں کے لئے سیاپا ڈالیں یا اپنے آپ پر بین کریں؟ جانے والا چلا گیا، میرے جیسے بہت سوں کو رلا گیا، جن کو یہ تک سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کیوں رو رہے ہیں اور میں ہوں کہ سوچتا ہوں کہ کیا لکھوں؟
ﯾﮧ ﺩﯾﺲ ﮨﮯ ﺍﻧﺪﮬﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ
ﺍﮮ ﭼﺎﻧﺪ ﯾﮩﺎﮞ ﻧﮧ ﻧﮑﻼ ﮐﺮ!

About نوید تاج غوری

تعارف کچھ خاص نہیں، بس ایویں لکھنے کا شوق ہے۔

Check Also

آف سکرین

تحریر: نوید تاج غوری عمومی طور پر “ایک تقریب کا آنکھوں دیکھا حال” نما مضمون …

Leave a Reply