Wednesday , August 23 2017

آف سکرین

تحریر: نوید تاج غوری
عمومی طور پر “ایک تقریب کا آنکھوں دیکھا حال” نما مضمون نگاری میرا خاصہ کبھی نہیں رہی۔ اللہ کے فضل سے اور دوستوں کی مہربانیوں سے کسی بھی ایونٹ میں شرکت یا رضاکارانہ فرائض سر انجام دینے کا موقع ملے تو میری پہلی خواہش سیلف لرننگ یا انٹریکشن کی ہوتی ہے۔ ہفتے کی شام کو بھی ایک تازہ مگر فیس بک پر آشنا دوست ثاقب ملک جو کہ ایک بلاگر ہیں، آرچر آئی کے مشکل نام سے ایک بلاگ چلاتے ہیں اور روزنامہ دنیا سے وابستہ بھی ہیں۔ ان کی دعوت پر اسلام آباد ہوٹل میں ایک سیمینار میں حاضری لگوانے کا موقع ملا۔ میری شرکت کا مقصد صرف ملاقاتیں ہی تھا جو کہ الحمدللہ پورا ہوا۔ لیکن اس ایونٹ کا تذکرہ اس لئے کر رہا ہوں کہ یہ اس لحاظ سے منفرد تھا کہ آن سکرین رائٹرز اور فالوورز کو آف سکرین فیس ٹو فیس ملنے اور سننے کا موقع ملا۔ ثاقب نے ایک ماہ پہلے فیس بک کے کچھ نامور لکھاریوں اور سوشل میڈیا خصوصا” فیس بک پر سرگرم کالم نویسوں کو یکجا کرنے کا سوچا اور پھر کر بھی دکھایا۔ خود ثاقب کی اپنی کافی فین فالوونگ ہے اس پر اتنے نام ایک ساتھ تو بجا طور پر تعریف بنتی ہے۔ لکھنے والوں کے ساتھ پڑھنے والوں نے بھی لبیک کہا اور اپنے فیورٹ لکھاری کو دیکھنے اور ملنے کے لئے دور دور سے شرکت کی۔ لیکن ساتھ ہی دوسرے مہمانوں کی گفتگو کو بھی بھرپور کان دئیے۔ انتظامی لحاظ سے تو اس سیمینار پر کوئی رائے رکھنا بھی ناجائز ہوگا لیکن ایک دو تقاریر سن کر جون ایلیا کی بات بہت یاد آئی کہ کچھ لوگ لکھ رہے ہیں حالانکہ انہیں پڑھنا چاہیے۔ کئی ایک لوگوں کو سن کر پتا چلا کہ لکھنے سے زیادہ بولتے اچھا ہیں۔ کچھ لوگوں کی آمد ایک خوشگوار سرپرائز ثابت ہوئی۔ نامور اورپرانے لکھاریوں کے ساتھ نسبتا” نئے اور غیر معروف لکھاریوں کو بھی انوائٹ کیا گیا جو میرے خیال میں ان کی حوصلہ افزائی کے لئے اچھی کاوش ہے۔ تقاریر اور سیشنز اتنے متنوع تھے کہ ایک تحریر میں کسی صورت احاطہ ممکن نہیں،بلکہ ہر ایک موضوع الگ بحث اور کالم کا متقاضی ہے۔ سر دست مختصرا” اپنی رائے عرض کردیتا ہوں ۔

جہاں تک مرکزی موضوعات کا تعلق ہے، کسی بہتر، پریکٹیکل، بامعنی اور جدید موضوع سے اجتناب کیا گیا۔ لکھاریوں اور فالوورز کے کمفرٹ زون میں رہتے ہوئے وہی مغرب سے مستعار شدہ، روایتی اور آج کل کافی کلیشے بن جانے والے ٹاپکس اٹھائے گئے، جن کا مرکزی خیال اور مقصد صرف دونوں اطراف کے لوگوں میں بے نتیجہ بحث کا جنم دینا ہوتا ہے۔ پاکستان سکیورٹی یا فلاحی ریاست ، اور پاکستان کا مستقبل ، مذہب یا سیکولرازم۔ ان پر پینل ڈسکشن ہوئی۔ پروفیسر فتح محمد ملک، ڈاکٹر عاصم اللہ بخش، عامر ہاشم خاکوانی، اور صفتین خان دونوں موضوعات کا حصہ رہے، باقی صحافی عمر چیمہ صاحب نے پہلی اور شکیل چودھری، فرنود عالم اور اکمل شہزاد گھمن صاحب نے دوسرے سیشن میں اظہار خیال کیا۔ پروفیسر فتح محمد ملک صاحب ایک زمانے کے استاد ہیں، اقبالیات پر وہ خود ایک اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی شمولیت اور ان کو سننا بذات خود ایک اعزاز ہے۔ ان کی باتوں سے بھلے کسی کو اختلاف ہو لیکن ان کی بزرگی، علمیت، ایمانداری اور حب الوطنی شک شبہ سے بالاتر ہے۔ میرے خیال میں ان سے صرف جہاں تک پینل ڈسکشنز کا تعلق ہے، خاکوانی صاحب ایونٹ کے مین آف دی میچ رہے۔ انفرادی اننگز فرنود نے اچھی کھیلی سوائے کچھ شاٹس کے۔ باقی سالہا سال ہوگئے اس بے معنی بحث کے۔ ایک ہی کیسٹ سن سن کر اب تو دونوں طرف کے دلائل یاد ہو گئے ہیں۔ اس لئے عرصہ ہوا سوال و جواب کا سلسلہ ندارد ہے۔ خاکوانی صاحب کا کانٹینٹ برجستہ تھا اور فریش بھی۔ باقی مذہب اورا س میں اسلام جیسا تدبر والا دین کسی طور پر بھی سیکولرازم جیسے معمولی اور سطحی خیال سے موازنے پر رکھنا یا پاکستان میں اس کیے نفاذ کا معاملہ اٹھانا محض علمی ، اور تاریخی بدیانتی ہے۔ میں تو پاکستان میں عملی طور پر ایک فٹبال گراونڈ کی طرز پر ہونے والی سنٹر، رائٹ اور لیفٹ والی تقسیم کا بھی قائل نہیں۔ یہ نظریاتی پوزیشنز تھیں جو بنیادی طور پر روس ٹوٹنے کے ساتھ ہی دم توڑ گئیں۔ پاکستان کی تاریخ میں سرسری طور پر بھی دیکھیں توصاف پتا چلتا ہے کہ یہ تقسیم صرف اسلام پسندوں اور پاکستان کی نظریاتی اساس کے علمبرداروں کے لئے ہے ، جن کے سوشلسٹ اور کمیونسٹ بھی مخالف تھے اورسرمایہ دارانہ اور جمہوری نظام کے حامی بھی۔ یہ جن کو رائٹ کہا جاتا ہے آج ان کے ملا اور تکفیری دہشت گرد بھی دشمن ہیں اور سیکولر اور ملحد بھی۔ باقی آج کل کی عوام خصوصا” نوجوانوں کی خال خال مثالوں کے علاوہ کوئی پڑھے سنے تو نظریاتی پوزیشن لے۔ اس لئے عرصہ ہوا کالجز، یونیورسٹیز سے لیکر، چائے خانوں اوریاروں کی محافل میں یہ تذکرے مفقود ہیں۔ اس زبوں حالی کا مرثیہ پھر سہی۔

باقی قابل ذکر جو انفرادی سیشنز ہوئے ان میں بلا شبہ مشہور لکھاری، جاسوسی ڈائجسٹ میں مداری اور شکاری جیسے سلسلہ وار ناولز کے خالق، احمد اقبال صاحب ، اپنے لہجے کی سچائی اور دل کی گہرائی سے بازی لے گئے بلکہ کچھ حد تک ناسٹیلجیا میں مبتلا کر گئے۔ احمد اقبال صاحب سے پہلی ملاقات تھی اور یہ بھی علم ہو کہ وہ اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں تو کافی افسوس ہوا کہ پہلے کیوں بے خبری رہی۔ جو انہوں نے آج کل کی نسل سے اسلام آباد کی نیشنل لائبریری سے لے کر دیگر لائبریریوں کی خستہ حالی و ویرانی کی جو بات کی، اس کا کسی کے پاس جواب نہ تھا۔ اردو زبان کی بے قدری پر انہوں نے کافی زور دیا۔ تقریب میں مباحث کا ایک کافی حصہ اردو زبان کی طرف ہی مڑ گیا۔ بہرحال اس پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ جس سوسائٹی میں باقی ہر قدر اور پہچان زوال پذیر ہے وہاں اردو بطور لکھنے پڑھنے کے ذریعہ بھی حالات کے رحم و کرم پر ہے۔ کاش کوئی ثاقب ملک کی طرح قدم اٹھائے اور ڈائجسٹ کے پرانے اور مشہور لکھاریوں کو بھی ایک چھت تلے جمع کر دے، جن کو بھلے ہی ادیبوں اور نقادوں نے کوئی مقام نہ دیا لیکن عوام نے سر آنکھوں پر بٹھایا۔

دوسرے عاطف حسین جنہوں نے ‘کامیابی کا مغالطہ’ نامی کتاب لکھی ہے جس نے موٹیویشنل سپیکرز کے دھندوں اور ہتھکنڈوں کو بری طرح ایکسپوز کیا، کو سننے کا اور ملاقات کا موقع ملا۔ لیکن محسوس ہوا کتاب اور لکھنے کی نسبت اپنا مقدمہ مختصر وقت میں کچھ کمزور پیش کیا۔ ایک سیشن انور عباسی صاحب نے بھی دیا جو بنک کے سود کو ربا نہ کہنے پر مشتمل تھا، اس پر مجھے ثاقب نے مختصرا” اختلافی رائے کے اظہار کا موقع فراہم کیا، لیکن یہ موضوع اس سیمینار میں کچھ مس فٹ تھا, دونوں طرف سے ہی انصاف نہیں ہو سکا۔ یہ ایک طویل کہانی ہے، انشاللہ پھر کسی وقت بنک کے نظام اور سود کے معاشرے پراثرات کو لے کر اپنی گزارشات ضرور پیش کروں گا۔

صحافی شکیل چودھری نے میڈیا میں چھان بین، حقائق کی تصدیق، شماریات کے درست استعمال اور تحقیق کی ضرورت پر سب کو بہرہ ور کیا۔ فرنود عالم کی گفتگو جامع اور دلچسپ رہی۔ سماج میں مکالمے کی حیثیت اور ضرورت پر بڑی نپی تلی بات کی۔ بلاشبہ تحریر اور تقریر دونوں کے فن سے آشنا ہے۔ اور بہت کم لوگ ایسے ملتے ہیں جن سےاختلاف رائے کے باوجود آپ کو ان کی کمپنی میں خوشگواریت کا احساس ہوتا ہے۔ مزید ملاقاتوں میں نئی بات کے کالمسٹ اور فیس بک پر میرے دوست آصف محمود صاحب کو پا کر خوشی ہوئی۔ ساتھ ہی خاکوانی صاحب سے تھوڑی شوخی فرمالی۔ اس بہانے سدا جواں دل اور جواں تحریر، عاصم اللہ بخش صاحب سے بھی دوستی کی بنیاد رکھ لی، جن کے تجزیئے مجھ جیسے عامیوں کی ہمیشہ رہنمائی کا باعث بنتے ہیں۔ جواں سال رائٹرز اور مصنفین میں ، ‘میڈیا منڈی’ نامی تحقیقاتی کتاب کے خالق اکمل شہزاد گھمن سے ملاقات ہوئی۔ آخر میں ذکر خوبصورت لہجے کے خوبصورت اور نوجوان شاعر’ احمد حماد سے ملاقات بھی ہوئی اور انہوں نے اپنی دو غزلیں بھی تقریر کی جگہ حاضرین کی نذر کیں اور خوب داد سمیٹی۔ جتنا سنا تھا، احمد حماد کو اس سے بڑھ کر منکسرالمزاج اور پیارا انسان پایا۔ شاہد اعوان صاحب کی خوبصورت کتاب ‘میرا مطالعہ’ بھی میری کولیکشن کا حصہ بنی لیکن وہاں ان کی موجودگی کے باوصف ان سے ملاقات نہ ہو سکی۔

ایک خوبصورت شام اور محفل جس میں میزبانوں نے خدمت میں کوئی کثر نہ چھوڑی، گزار کر گھر لوٹ آیا۔ لیکن استاد فتح محمد ملک صاحب کا ایک کرب میں ڈوبا ہوا فقرہ جو شائد صرف نظراور صرف سماعت ہو گیا، میرے لئے ساری تقریب پر بھاری تھا کہ میں معافی مانگتا ہوں کہ ہم اس نسل کی صحیح تربیت نہیں کر سکے، جو آج یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ قیام پاکستان اسلام کے نام پر ہوا تھا یا نہیں اور کیا اس کا مستقبل اسلام سے وابستہ ہے یا نہیں!

About نوید تاج غوری

تعارف کچھ خاص نہیں، بس ایویں لکھنے کا شوق ہے۔

Check Also

آہ امجد صابری!

دو چار دن سے امجد صابری کے بارے میں کچھ لکھنا چاہ رہا ہوں مگر …

Leave a Reply