Wednesday , August 23 2017

صرف بالغوں کے لئے!

نوید تاج غوری

بسا اوقات مذاق میں بولا، سنا گیا جملہ بھی ایسے ذہن سے چپک جاتا ہے کہ بندہ نہ بھی چاہے تو اس کے بارے میں سوچتا چلا جاتا ہے۔ یو ٹیوب پر ایک مزاحیہ پروگرام کا کلپ دیکھا جس میں ایک انڈین کامیڈین نے بولا” ہمارے لوگ اس لئے ترقی نہیں کر سکتے کہ ان کے دماغ پر کام نہیں،کاما سوترا (جنسیات پرقدیم ہندوستانی علم) سوار رہتا ہے“
اس وقت تو ہنسی آئی لیکن بعد میں غور کیا یہ بات ہمارے پاکستانیوں کے لئے بھی اتنی ہی صحیح ہے۔ ہم لوگ بھی جنس، مردانہ طاقت اور شادی وغیرہ کے موضوع پر اجتماعی طور پر ٹھیک ٹھاک obsession یا ذہنی مغلوبیت کا شکارہیں۔ مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مرد اپنی مردانہ طاقت کھو بیٹھے ہیں اور یا یہ آخری رکاوٹ ہے جو باقی رہ گئی ہے، ورنہ دنیا فتح کر لیتے۔ کرہ ارض پر کسی ملک میں اس غالباً ایسا کال نہیں پڑا جتنی آخر ہمارے لوگوں کو آئی ہوئی ہے۔ بچپن کے دیکھے مجمعے لگانے والے یادآتے ہیں جو ہر جمعے کے جمعے آتے، اور کچھ تماشے کے بعد بچہ لوگوں کو باہر نکال دیتے۔ ہم بھی ایسے ڈھیٹ اور چالاک ہوتے کہ پنجوں کے بل کھڑے ہو ہو کر اپنے آپ کو بڑا شو کرتے یا چھپ کے گھس آتے۔ اس وقت تو ساری باتیں سمجھ نہ آتی تھیں پھر بھی بس ان کو سنتے تھے کہ ہمیں نکال کر آکر کیا کرتے ہیں۔ خیر وہ تو مجمعے باز تھے، ایک کرلے نما جانور جس کو سانڈے کے لقب سے پکارتے ہیں، اس کے سرخ تیل سے لے کر خاص خاندانی خفیہ نسخوں پر بنے ”کشتے “اور ”سلاجیت“ فروشی کے ماہر، جن کی تفصیلات میں اب بھی بوجوہ نہیں جا سکتا۔ بسوں میں دوایاں بیچنے والے، مسجدوں کے باہر”نوجوانی کی غلطیاں “درست کرتے پمفلٹس کہ جن کو پڑھ کر اچھا بھلا بال بچے دار آدمی حیر ت زدہ اور کنوارہ حسرت زدہ ہو جائے۔ شہر کے گلی کوچوں میں نمایاں تریں پوسٹرز، منہ چڑاتی وال چاکنگ، شاہراو¿ں کے دو طرفہ ہر ممکنہ دیوار یا دیوار نما جگہ پر پوشیدہ امراض کے علاج کے دعوے اور ہر اخبار کے سنڈے میگزین میں یونانی حکمت کے جانشینوں کے کمالات بمعہ مریضوں کے خطوط۔۔ اور تو اور، اکثر ایسا ہی ایک گوگل ایڈ بھی اردو میں نمودار ہوتا ہے جو اگر انگلش میں ہوتا تو گوگل بین کر دیتا۔ ایسے ماڈرن حکیم اور ڈاکٹرز کی کارستانیاں سوشل میڈیا اور فیس بک پر بھی دھڑادھڑ موجود ہیں۔ کوئی دیسی نسخہ ہے، کوئی عربی، کوئی انگریزی، کوئی روحانی، اور کوئی یونانی، ٹارگٹ ، سب کا ایک ہے۔ اب تو گوگل پلے پر باقاعدہ ایسے ازدواجی اور غیر ازدواجی مسائل اور مشورہ جات والی ایپس پڑی ہیں اردو میں ….اور ماشاللہ ہمارے لوگوں کی ڈاو¿ن لوڈنگ سے نمایاں مقام پا چکی ہیں۔ اگر آپ گوگل پر اردو میں صرف ایک لفظ مردانہ ٹائپ کریں تو تجویز میں خودبخود جو سرچ ٹرمز آتی ہیں۔ ان میں سر فہرست مردانہ کمزوری کا علاج، مردانہ طاقت، مردانہ طاقت کے نسخے، اور مردانہ قوت میں اضافہ ہیں۔ دل تو چاہ رہا تھا کہ ایسے کچھ جملے اور اشتہار اور دعوے یہاں نقل کرتا لیکن ایک تو تحرہر کی طوالت مدنظر، دوسرا اپنے پیج کے فیملی اوریئنٹڈ ہونے کی فکر۔ بھلے آپ خواتین و حضرات ایسے کئی نادر اور کان سرخ کرنے والے نمونے روز دیکھتے ہوں. ہرعوامی جگہ پہ یہ ”مرد نامہ“ پڑھتے یا سنتے ہوں، خاکسار نقل کرےگا تو منٹو کی طرح فحش قرار پائے گا!
ہمارے ہاں گالیوں سے ہٹ کر بھی جنس، گفتگو، محاورے، اشارے اور روز مرہ زندگی میں لوگوں کے دماغ پراتنی سوار ہے کہ کوئی سبزی، پھل وغٰیرہ موسمی، غیر موسمی کھانے کا ذکر ہو، اس کی خواص میں پہلا تبصرہ اس کی مردانہ طاقت کی اثر پذیری پر ہوتا ہے۔آپ پاکستان میں کسی سے کہیں بھی کھجور، ڈرائی فروٹس، زیتون یا زیتون کے تیل، دنبہ کی کڑاہی، تلی ہوئی مچھلی، بھنے ہوئے بٹیر، سیخوں پر لگے چڑے، سری پائے، ٹکاٹک یا اس قبیل کی کسی بھی گوشت کی بنی جیز کے بارے میں لوگوں سے افادیت دریافت کریں، اور کچھ پتا ہو نہ ہو، اس کے خاص مردانہ فضائل پر سیر حاصل بحث ملے گی۔ لوگ آپ کو یہ بھی بتائیں گے کہ خبردار زنانہ ذائقوں یعنی کسی بھی مرچوں والی، چٹپٹی یا کھٹی چیز، مثلاً گول گپے، املی کی چٹنی، اور اچار وغیرہ کے نزدیک بھی نہ جانا کیوں کہ۔۔۔
۔۔۔ سمجھ توآپ گئے ہی ہونگے!
ایک اور چیز، باکستانی عوام میں ایک عجیب و غریب بات میں نے تواتر سے نوٹ کی ہے کہ لوگوں کو خوامخواہ دوسروں کی دائی اماں بننے کا شوق ہے۔ ہر بندہ اس کوشش میں لگا ہے کہ بچے پیدا کرے اور جو نہیں کر سکتا اس کا فرض اوّلین ہے کہ دوسرے کے بچے پیدا کروا کر چھوڑے۔ اس میں بڑے چھوٹے، رشتہ دار و انجان، دوست و دشمن، کسی کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ اگر کسی کی شادی نہیں ہوئی ہے تو دن رات کا مشورہ ہے، شادی کر لو، شادی کب کرو گے، شادی کیوں نہیں کرتے۔ بندہ پوچھے آپ سے کہ اس کو یا اس کے گھر والوں کو بھی فکر ہوگی اور معلوم ہوگا کہ کیا وجہ ہے؟ آپ کا مشورہ مفت اسے نہیں چاہیئے ہے۔ اچھا جب بالفرض شادی ہو جائے تو بھلے ابھی آپ کا ایک ماہ ہی گزرا ہوگا، لوگ آپ کی، خصوصاً خواتین کی طرف دن رات ایسے دیکھنا شروع کر دیتے ہیں جیسے پھٹّے کے سامنے چھیچھڑوں کے انتظار میں بلی قصائی کو بوٹیاں بناتے دیکھتی ہے۔ مردوں کو کچھ عرصے بعد یہ سننا شروع کر دیتے ہیں” او بھائی خیر ہے کوئی ٹیکنیکل فالٹ تو نہیں“ جبکہ خواتین کی سب سے بڑی دشمن گھر یا آفس میں وہ عورتیں ہوتی ہیں جو بظاہر ہمدردی اور محبت جتا کر یہ کھوج لگانا چاہتی ہیں کہ آخر مسئلہ کیا ہے، کہاں ہے اور کس میں ہے۔
شاید خواتین کو لگتا ہے کہ یہ صرف ان کو سننا پڑتا ہے تو یہ بھی غلط ہے، مرد بھی اسی طرح سے ”آ زمائے“ جاتے ہیں۔ جو زیادہ فرینک ہوں وہ رازدارانہ ”مشورے“ اور ”نسخوں“ کا بندوبست بھی فرمانے کو تیار نظر آتے ہیں۔ میں ہرگز کسی پنڈ یا چھوٹے شہر کی بات نہیں کر رہا، ابھی فیس بک پر کوئی نیا نویلا جوڑا اپنی تصویر پوسٹ کر دے، تعریفوں کے ساتھ ایسے کمنٹس آتے ہیں کہ”تو جناب، دو سے تین کب ہو رہے ہیں؟“ کسی کے گھر جائیں تو خوشخبری کب سنا رہے ہیں جیسے سوالات۔ عورتیں خصوصاً ایسے سوال ضرور پوچھا کرتی ہیں اور صورتحال اکثر نئی شادی شدہ لڑکی کے لئے خفت اور شرم کا سبب بن جاتی ہے۔
خدانخواستہ جو صاحب اولاد نہیں ہیں کسی بھی وجہ سے صرف آس پاس کے لوگ ان کی زندگی میں اس کمی کو محرومی بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اچھا اگر بندے کو خدا ایک اولاد سے نواز دے تو پھر بھی لوگوں کی تسلی نہیں ہوتی۔ اب اگلا مشورہ مفت یہ آتا ہے”بھئی اوپر نیچے کر لو، ایک ساتھ پل جاتے ہیں بعد میں بندہ ریلیکس ہو جاتا ہے۔“
میرے ایک قریبی دوست پہلے دو بچوں پر قناعت کے فیصلے کے باوصف، ایک طویل وقفے کے بعد مزید دو بچے صرف لئے دنیا میں لائے کہ ان کی والدہ ماجدہ کی فرمائش تھی اور وہ گھر میں بچوں کی کم تعداد سے مطمئن نہیں تھیں!اس معاشرے میں اپنے گھر یا حلقہ احباب میں کوئی فیملی پلاننگ کرنے کی بات کرے تو اس کی جان کو لوگ آجاتے ہیں۔ بیوی چاہے کہیں جنرل مینیجر لگی ہو، جب تک ماں نہ بنے، کوئی بچہ پیدا کرنے والی مشین سے اوپر رتبہ ہی نہیں دیتا۔ کوئی مذہب کو ڈال کر ایموشنز سے کھیلتا ہے کہ روزی روٹی اللہ دے گا۔ بھئی خدا نے آپ سے بے شک رزق کا وعدہ کیا ہے اور وہ ہر جان کو دیتا ہے، یہ ہمارا ایمان ہے لیکن، خدا نے آپ سے سکولوں، ہسپتالوں، سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کا وعدہ نہیں کیا۔ آپ سے یہ وعدہ نہیں کیا کہ وہ ہر کسی کواعلٰی درجے کی حکومت اور صحت مند معاشرہ دے گا۔
اچھا کچھ لوگوں کو پہلی اولاد اگر اللہ نے رحمت دی ہے ، بیٹی سے نوازا ہے تواب مشورہ آئے گا، بیٹا بھی ہونا چائیئے۔ پوچھو وجہ؟ تو جواب ملتا ہے بس جوڑی ہو جائے گی۔ میں استفسار کرتا ہوں کہ یعنی اگر دوسری پھر بیٹی ہوگئی تو پھر بیلینس کرنے کے لئے دو مزید لڑکے پیدا کرنے ہونگے یا دوسری بیٹی بھی جوڑی بن جائے گی۔ میرا اندازہ ہے کہ بیس کروڑ کی آبادی میں دس کروڑ کم ہوجاتے اگر ہم شادی شدہ جوڑوں سے ایسے سوالات کرنا بند کر دیتے۔ اور ویسے برسبیل تذکرہ، یہ لڑکے کے چکر میں اوپر تلے لائن لگا دینا ہمارے معاشرے میں نارمل سی بات ہے۔ بندہ پوچھے وہ جیتی جاگتی عورت ہے، اس کے مسلے مسائل ہیں، ذہنی اور جسمانی صحت ہے، آپ نے اسے فوٹو سٹیٹ مشین سمجھا ہوا ہے جب تک مرضی کا پرنٹ نا آئے کاپیاں نکالتے رہو!
شاید ان ہی سب باتوں کا نتیجہ ہے کہ یا رش ایسے نام نہاد معالجوں کے پاس ہے یا گائنی ڈاکٹرز کے کلینک پر۔ جس ملک میں کھانے سے نہانے تک جنس اور جنسی طاقت کا حصول مقصد ہو۔ جس مللک میں دوسروں کی شادی اور اور دوسروں کے بچے کی پیدائش ہر وقت خواتین و مرد پر سوار رہتا ہو۔ جس ملک میں ہمدردی اور محبت کے نام پر گھر والے، رشتہ دار، دوست اور کولیگز آپ کی پرائیویسی اور ذاتی معاملات کی دھجیاں اڑاتے ہوں۔ جس ملک میں ماں باپ کی خواہش پر میاں بیوی بچے پیدا کرتے ہوں، اس مللک میں لوگوں کو یہ بات سمجھانا، کہ اولاد کی پیدائش کا فیصلہ، کسی کی جنسی، ازدواجی، خاندانی، اور طبی زندگی اس کا ذاتی معاملہ ہے، یہ بتانے کی کوشش کرنا کہ کسی سے ایسے سوالات کرنا، بلا مانگے مشورہ دینا سخت ترین بد تہذیبی، بد اخلاقی، اورغلط عادت ہے اور یہ کہ آپ کی یہ جانے انجانے میں گفتگو کسی کی سخت دل آزاری، فرسٹریسن یا شدید ڈپریشن کا باعث بن سکتی ہے…. محض ایک صدا بصحرا ہے۔ ایسی قوم اور ایسا جنون۔۔ بس….
اناللہ وانا علیہ راجعون!

About نوید تاج غوری

تعارف کچھ خاص نہیں، بس ایویں لکھنے کا شوق ہے۔

Check Also

رنگ بازیاں اور رمضان انٹرٹینمنٹ!

Related

Leave a Reply