Wednesday , August 23 2017

نبیَ الاُمی ﷺ

نوید تاج غوری

ایک دوست کی وال پر کسی کا یہ سوال دیکھا،

اللہ کو سب سے زیادہ جاننے والے کا نام ”اُمی” کیوں ہے؟

جو بساط بھر طالب علمانہ جواب لکھا، آپ سب سے بھی شئیر کر رہا ہوں۔۔۔

قرآنِ مجید، فرقانِ حمید اللہ کا کلام ہے اور خدا کی تعریف اور صفات کی طرح اس کے بیان اور الفاظ کے مفہوم کو اپنی عقل، علم اور دانش کے بل بوتے پر سمجھنا اور کسی بھی سطح کا دعوی کرنا میرے ایمان میں روئے زمین آپ ﷺ کے علاوہ دوسری کسی بھی ہستی کے لئے ممکن نہیں۔ کجا خاکسار کا کسی لفظ کی وضاحت کرنے کی کوشش کرنا۔ ویسے ہی عربی یا کسی بھی زبان اور اس کے بیان میں ہر لفظ کا مطلب اور مفہوم، سیدھا، سادہ اورعمومی نہیں لیا جا سکتا۔ اُمی کا لفظ بھی آپ ﷺ کے لئے سورہ اعراف کی آیت نمبر157 میں بطور ترکیب نبیَ الاُمی ملتا ہے۔

“وہ جو (محمدﷺ) رسول (الله) کی جو نبی اُمی ہیں پیروی کرتے ہیں جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں۔ اور پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹہراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سر) پر (اور گلے میں) تھے اتارتے ہیں۔ تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی۔ اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی۔ وہی مراد پانے والے ہیں.”
(7:1577 القرآن)

خاکسار عاجز ہے لہذا قرآن پاک کا ذکر کئے بنا اگر بات صرف لٹریچر کے حوالے سے، صرف ایک لفظ اُمی پر ہی اپنی تحقیق اور تعلیم کے لئے ابتدا کی جائے تو لفظ، اس کے مفاہیم، اس کی بنیاد یا مادہ، مصدر، گرائمراور استعمال کا ایک جہاں ہے۔ اور پھر جب بات اللہ یا آپ ﷺ کی آتی ہے، عربی اور دنیا بھر کی دیگر زبانوں میں جو بھی لکھا جائے گا، کچھ الفاظ، علامات اور استعارے اتنے منسوب ہو چکے ہیں کہ جب بھی عام بول چال یا تحاریر میں ذکر آئے، تو لوگ اس سے ایک خاص مراد لیتے ہیں۔ لہذا ایسے الفاظ کو الگ سے واضح نہیں کرنا پڑتا۔ مثالیں بہت سی دی جا سکتی ہیں۔ جیسے عربی کے الفاظ ہیں،امر، وحی، سنۃ، مدینہ وغیرہ۔ جن کے لغوی معنی ضرور ہیں لیکن عام طور پر ایک خاص نسبت سے ان کو پڑھا اور سمجھا ہے۔ اسی طرح حدیث اپنے معنی میں بات کو کہتے ہیں، لیکن آپ ﷺ کے لئے استعمال ہوتا ہے تو ایک خاص مفہوم اور پس منظر رکھتا ہے۔ اسی طرح لفظ اُمی کا مطلب ان پڑھ، بے علم یا جاہل نہیں۔ اور پھر جب اس کا استعمال آقا ﷺ کے لئے ہے تو مفہوم بالکل بدل جاتا ہے۔

آکسفورڈ ڈکشنری آف اسلام اس ترکیب “نبی الاُمی” کے حوالے سے مفہوم کچھ یوں ملتا ہے کہ “ایک ایسا نبی جو ان لوگوں کی طرف بھیجا گیا جو (پیروی کے لئے) کوئی کتاب یا مخطوطہ (تحریر) نہ رکھتے تھے۔ اُمی، لفظ اُم سے نکلا ہے جس کا مفہوم، ماں، منبع یا بنیاد کا ہے جیسے قرآن پاک کو بھی اُم الکتاب کہا جاتا ہے۔ اُمی کا ایک مطلب ماں جیسا، اور ایک مطلب غیر تعلیم یافتہ بھی ہے۔ لیکن سب سے زیادہ جو نبی الاُمی کی ترکیب سے مراد لی جاتی ہے وہ رسول کریم ﷺ کی قران پاک کو خود (یعنی اپنی طرف سے) نہ لکھنے کا اعلان ہے۔ کچھ مفسرین کی رائے میں اُمی کا تعلق لفظ اُمہ یا امت ہے جس کا مطلب ایک ایسا بنیادی معاشرہ یا جو ایک مشترکہ مذہبی رجحان کا مالک ہو۔ اس تناظر میں نبی الاُمی کا مفہوم یہ بھی نکلتا ہے وہ نبی جو ایسے معاشرے کی طرف بھیجا گیا جن کو ابھی تک کوئی ہدایت نامہ نہیں ملا، یا (ایک نئی) امت کی بنیاد رکھنے والاـ”

خدا ماضی، حال اور مستقبل سے صرف واقف نہیں وہ وقت کا خالق بھی ہے اور وقت سے بے نیاز بھی۔ خدا نے جہاں قرآن کی حفاظت کا وعدہ کیا وہاں صاحب قرآن ﷺ کو بھی حکمت سے ہر اعتراض، ہر نکتہ چینی سے بالا کر دیا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے کبھی کسی مکتب، کسی ادارے، کسی شخص سے تعلیم نہیں لی۔ کہیں زانوئے تلمذ تہہ نہیں کیا۔ کسی ارضی، تہذیبی، تاریخی یا شخصی فلسفے سے وہ متاثر نہ تھے۔ قرآن کے الفاظ میں جادوگر اور شاعر نہ تھے کہ معاذ اللہ قریہ قریہ بھٹکتے! ان کے قلب و ذہن پر خدائے واحد کے سوا کسی کا پرتو نہ تھا۔ سورۃ نور میں بیان کردہ وہ منور طاق کہ جس میں صرف ایک چراغ جلتا ہے۔ وہ تو سدرۃ المنتہی سے بھی آگے کی راہوں کے مسافر تھے۔ حکمت خداوند دیکھئے کہ وقت نزول تو ایک طرف، رہتی دنیا تک کوئی شخص یہ تنقید نہیں کر سکتا کہ آپ فلاں مکتب، فلاں استاد، فلانے فلسفے یا فلانی تعلیم کے زیر اثر اسلام لائے یا کلام اللہ تخلیق کیا۔ کسی آنکھ نے نہیں دیکھا کہ قرآن سے پہلے رسول کریم ﷺ نے کسی کتاب کو پڑھا ہو یا کوئی لکھنے لکھانے کا شغف ہو، جیسا کہ عمومی طور ہر خطہ عرب اپنی لفاظی، تحریر خصوصاً شاعری کے حوالے سے چار دانگ عالم میں نہ صرف مشہور تھا بلکہ لسانی برتری کا خبط بھی رکھتا تھا۔ تو ایسے معاشرے میں کسی بھی شخص کا طویل عرصے تک اپنے ذوق و شوق یا فن کو چھپائے رکھنا ممکن ہی نہ تھا۔ سو ایسا کلام جس نے بولتی زبانوں کو گنگ کر دیا، جس کو سن کر قادرالکلام ششدر رہ گئے۔ بڑے سے بڑے شاعر نے اس کلام کو سن کر گھٹنے ٹیک دیے، خدا جانتا تھا کہ اس کلام اب اور آنے والے دور میں پہلا تیر یہ ہی آئے گا چاہے تعریف میں کہ محمد ﷺ نے کیسا اعلی کلام لکھا ہے۔ کوئی یہ فتنہ چھیڑتا کہ یہ نعوذباللہ منجانب اللہ نہیں ذاتی کاوش ہے۔ کوئی کہتا بائبل، تورات یا زبور یا دوسرے صحائف سے سرقہ ہے۔ کوئی یونانی، کوئی رومن، کوئی ایرانی فلسفے سے ڈانڈے ملاتا۔ کوئی بدھ، چینی یا ویدوں سے بات ملاتا۔ سو ایسے سوالات کو خدا بس دو لفظوں میں، نبی الاُمی کہہ کر سمیٹ لیتا ہے یا اس اعتراض کو خدا بس ایک فقرے، ایک آیت میں اپنی گواہی سے اڑا دیتا ہے۔
“اور تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اُسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے ایسا ہوتا تو اہلِ باطل ضرور شک کرتے.”
(سورة العنكبوت 29:488)

تو یہ نہ کہیئے کہ آپ ﷺ کہ جن پر ہمارے ماں باپ اور اولادیں قربان، کہ ان کو لکھنا پڑھنا نہیں آتا تھا، یہ کہیں کہ آپ ﷺ کسی روایتی تعلیم یا فارمل ایجوکیشن سے نہیں گزرے تھے۔ یا سادہ الفاظ میں یہ کہئے کہ انسانوں میں سے کوئی ان کا استاد نہیں تھا۔ نبی الاُمی ہونا خدا نہ خواستہ نہ کوئی طعنہ ہے، نہ کوئی کمی یا کجی ہے۔ بلکہ یہ تو میرے رسول ﷺ کا لقب ہے، میرے آقا ﷺ کا اعزاز ہے اور میرے نبی ﷺ کا اعجاز ہے کہ جن کا استاد، کہ جن کو بتانے والا، سکھانے والا اور پڑھانے والا صرف اللہ ہے کہ بقول مارٹن لینگز(ابو بکر سراج)، جب تک جبرائیل بھی یہ نہیں کہتا کہ پڑھ اپنے رب کے نام سے، محمد ﷺ نہیں پڑھتے۔۔۔۔!

یوں پھرغار حرا کی تنہائی میں ایک آیت چمکتی ہے۔۔۔
اور وہ پہلی وحی آپﷺ کے مبارک لبوں سے ادا ہوتی ہے۔۔۔
اقرأ باسم ربك الذي خلق

درود و سلام ہو ان پر اور ان کی آل پر ﷺ

About نوید تاج غوری

تعارف کچھ خاص نہیں، بس ایویں لکھنے کا شوق ہے۔

Check Also

رنگ بازیاں اور رمضان انٹرٹینمنٹ!

Related

Leave a Reply